طبی اسقاط حمل کے بارے میں

Responsive image

متعدد ممالک میں اسقاط حمل کی دستیابی اور اسقاط حمل کی گولیوں کے استعمال کے بارے میں قوانین موجود ہیں۔ ایسے ممالک جہاں اسقاط حمل ممنوع نہیں ہے، زیاده تر ڈاکٹرز حمل کے پہلے 10 ہفتوں میں mifepristone )مائفیپرسٹون( اور misoprostol )میزوپروسٹول( نامی دواؤں کا استعمال تجویز کرتے ہیں، لیکن misoprostol بذات خود پہلے 10 ہفتوں میں انتہائی مؤثر ہے۔ گولیوں کے ساتھ اسقاط حمل کی علامات خود بخود ہونے والے اسقاط حمل کے بہت مساوی ہیں، اور گولیوں سے رازداری کے ساتھ اسقاط حمل خواتین کے لیے محفوظ ہے۔

دواؤں والے اسقاط حمل کی گولیوں میں استعمال کرده دوا رحم کی گردن )رحم کا مہانہ( کو ُپرسکون کرکے اور کھول کر کام کرتی ہے، اور بچہ دانی کو سکوڑ دیتی ہے، جو حمل کو باہر دھکیل دیتا ہے۔

Misoprostol کے ساتھ، عام طور پر آپ کے جسم میں گولیوں کے پہلے سیٹ کے جذب ہونے کے 1 سے 2 گھنٹوں کے اندر آپ کو اینٹھن اور بلیڈنگ )جریان خون( شروع ہوجائے گی۔ اسقاط حمل عام طور پر misoprostol کی آخری گولی لینے کے 24 گھنٹوں کے اندر ہوجاتا ہے۔ اکثر، یہ اس سے پہلے ہی ہوجاتا ہے۔

Responsive image
Responsive image

اگر آپ کو تشویش ہو تو، آپ حمل کا ٹشو باہر نکلنے پر بتا سکتی ہیں۔ یہ چھوٹے گہرے رنگ کے انگوروں اور پتلی جھلی جیسا لگ سکتا ہے؛ یا ایک چھوٹی تھیلی کی طرح جس کے گرد سفید، پھولی پھولی تہہ ہو۔ حمل کی مدت کے لحاظ سے، یہ ٹشو آپ کی انگلیوں کے ناخن سے چھوٹے، آپ کے انگوٹھے کی سائز تک کے ہوسکتے ہیں۔ اگر آپ ان ٹشوز کی شناخت کرسکتی ہیں تو، یہ اس بات کا اشاره ہے کہ اسقاط حمل کامیاب رہا۔ اکثر، حمل کے ٹشو خون کی پھٹکیوں میں لپٹے ہوسکتے ہیں۔ جب تک آپ غور سے نہ دیکھیں آپ کو اس کا پتہ نہیں بھی چل سکتا ہے۔